التماسِ ضروری از مولف کتاب


اُس خداوند عالم کا کیا کیا شکر ادا کیا جائے کہ جس نے اول مجھ ناچیز کو محض اپنے فضل اور کرم اور عنایت غیبی سے اس کتاب کی تالیف اور تصنیف کی توفیق بخشی اور پھر اس تصنیف کے شائع کرنے اور پھیلانے اور چھپوانے کے لئے اسلام کے عمائد اور بزرگوں اور اکابر اور امیروں اور دیگر بھائیوں اور مومنوں اور مسلمانوں کو شائق اور راغب اور متوجہ کردیا۔ پس اس جگہ ان تمام حضرات معاونین کا شکر کرنا بھی واجبات سے ہے کہ جن کی کریمانہ توجہات سے میرے مقاصد دینی ضائع ہونے سے سلامت رہے اور میری محنتیں برباد جانے سے بچ رہیں۔ میں ان صاحبوں کی اعانتوں سے ایسا ممنون ہوں کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے میں ان کا شکر ادا کرسکوں بالخصوص جب میں دیکھتا ہوں کہ بعض صاحبوں نے اس کارخیر کی تائید میں بڑھ بڑھ کے قدم رکھے ہیں اور بعض نے زائد اعانتوں کے لئے اور بھی مواعید فرمائے ہیں تو یہ میری ممنونی اور احسان مندی اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔

میں نے اسی تقریر کے ذیل میں اسماءمبارک ان تمام مردان اہل ہمت اور اولی العزم کے کہ جنہوں نے خریداری اور اعانت طبع اس کتاب میں کچھ کچھ عنایت فرمایا مع رقوم عنایت شدہ ان کی کے زیب تحریر کئے ہیں اور ایسا ہی آئندہ بھی تا اختتام طبع کتاب عملدرآمد رہے گا کہ تا جب تک صفحہ_¿ روزگار میں نقش افادہ اور افاضہ اس کتاب کا باقی رہے ہر یک مستفیض کہ جس کا اس کتاب سے وقت خوش ہو مجھ کو اور میرے معاونین کو دعائے خیر سے یاد کرے۔

اوراس جگہ بطور تذکرہ خاص کے اس بات کا ظاہر کرنا بھی ضروری ہے کہ اس کارخیر میں