آج تک سب سے زیادہ حضرت خلیفہ سید محمد حسن خان صاحب بہادر وزیراعظم و دستور معظم ریاست پٹیالہ سے اعانت ظہور میں آئی یعنے حضرت ممدوح نے اپنی عالی ہمتی اور کمال محبت دینی سے مبلغ _دو سو پچاس روپیہ اپنی جیب خاص سے اور پچھتر_ روپیہ اپنے اور دوستوں سے فراہم کرکے تین سو _ پچیس روپیہ بوجہ خریداری کتابوں کے عطا فرمایا عالی جناب سیدنا وزیر صاحب ممدوح الاوصاف نے اپنے والا نامہ میں یہ بھی وعدہ فرمایا ہے کہ تا اختتام کتاب فراہمی چندہ اور بہم رسانی خریداروں میں اور بھی سعی فرماتے رہیں گے اور نیز اسی طرح حضرت فخرالدولہ نواب مرزا محمد علاﺅ الدین احمد خان بہادر فرمانروائے ریاست لوہارو نے مبلغ چا _لیس روپیہ کہ جن میں سے بیس_ روپیہ محض بطور اعانت کتاب کے ہیں مرحمت فرمائے اور آئندہ اس بارہ میں مدد کرنے کا اور بھی وعدہ فرمایا اور علیٰ ہذا القیاس توجہ خاص جناب نواب شاہجہان بیگم صاحبہ کرون آف انڈیا رئیس دلاور اعظم طبقہ اعلائے ستارہ ہندو رئیسہ بھوپال دام اقبالہا کی بھی قابل بے انتہا شکر گزاری کے ہے کہ جنہوں نے عادات فاضلہ ہمدردی مخلوق اللہ کے تقاضا سے خریداری کتب کا وعدہ فرمایا اور مجھ کو بہت توقع ہے کہ حضرت مفتخر الیہا تائید اس کام بزرگ میں کہ جس میں صداقت اور شان و شوکت حضرت خاتم الانبیا صلی اللہ وسلم کی ظاہر ہوتی ہے اور دلائل حقیت اسلام کی مثل روز روشن کے جلوہ گر ہوتی ہیں اور بندگان الٰہی کو غایت درجہ کا فائدہ پہنچتا ہے کامل توجہ فرماویں گی۔

اب میں اس جگہ بخدمت عالی دیگر امرائے اور اکابر کے بھی کہ جن کو اب تک اس کتاب سے کچھ اطلاع نہیں اس قدر گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ بھی اگر اشاعت اس کتاب کی غرض سے کچھ مدد فرماویں گے تو ان کی ادنیٰ توجہ سے پھیلنا اور شائع ہونا اس کتاب کا جو دلی مقصد اور قلبی تمنا ہے نہایت آسانی سے ظہور میں آجائے گا۔ اے بزرگان و چراغانِ اسلامآپ سب صاحب خوب جانتے ہوں گے کہ آج کل اشاعت دلائل حقیت اسلام !